نئی دہلی، 12؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کسان تحریکوں کو لے کر مودی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔کسانوں کی پیداوار کے لیے ناکافی اور کم خریداری قیمت موجودہ زراعت بحران کی جڑ ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ قرض معافی تنہا حل نہیں ہے، الگ الگ جگہوں پر الگ الگ مسائل ہیں، کہیں کسانوں کی لاگت بڑھ گئی ہے اور پیداوار کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی جی نے الیکشن کے وقت کہا تھا کہ سرمایہ کاری پر50فیصد جوڑکر امدادی قیمت کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے جی ایم سیڈ کو لے کر مرکز ی حکومت کو خط لکھا ہے کہ نئی قسم کی بیماریاں شروع ہو گئی ہے، زراعت میں یہ تصور ہے کہ ان بیجوں سے جتنی پیداوار بڑھے گی وہ اتنی ہی غلط ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ فصل بیمہ یوجنا کسانوں کے لیے نہیں ہے، ہمیں کسانوں کے مفاد کو ذہن میں رکھ بہتر پالیسی بنانی ہوگی، جس کسان نے قرض نہیں لیا وہ بحران میں نہیں ہے۔نتیش نے کہا کہ بہار میں کسان قرض نہیں لیتے، انہوں نے کہا کہ لاگت بڑھ رہی ہے اور پیداوار کی قیمت کم ہو رہی ہے، یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملک کے جاٹ ،مراٹھا اور پاٹیدار ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے ہیں ،اس کے پیچھے وجہ زرعی بحران ہی ہے۔غورطلب ہے کہ مدھیہ پردیش کے مندسور میں یکم جون سے چل رہی کسان تحریک میں مظاہرہ کررہے کسانوں کے پرتشدد ہونے پر پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی تھی، جس میں 6 کسانوں کی موت ہو گئی تھی ۔اس فائرنگ میں پانچ کسانوں کی تو اسی دن موت ہو گئی، جبکہ ایک دیگر کسان نے جمعہ کو اسپتا ل میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔